امجد اسلام امجد کی تمام کتابیں پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ کریں
Amjad Islam Amjad Books in PDF Zara Phir Se Kehna زرا پھر سے کہنا Amjad Islam Amjad Waaris وارث by Amjad Islam Amjad (PDF) Satwan Dar ساتوا...
Amjad Islam Amjad Books in PDF Zara Phir Se Kehna زرا پھر سے کہنا Amjad Islam Amjad Waaris وارث by Amjad Islam Amjad (PDF) Satwan Dar ساتوا...
بانجھ ارادہ اور کوئی جھوٹا وعدہ اور کوئی ہم جیسا کیا دیکھا ہے! تم نے سادہ اور کوئی دل میں سارا کھوٹ ہی کھوٹ تن پہ لبادہ اور کوئی دیر و حرم ...
پاکستان کے اُس خوبصورت خواب کے نام جو ہم سب میں اپنی تعبیر ڈھونڈ رہا ہے۔ "وارث" کا آئیڈیا اور تھیم حقائق سے زیادہ حقیقت پسندی اور ...
رُتوں کے ساتھ دلوں کی وہ حالتیں بھی گئیں ہوا کے سنگ ہوا کی امانتیں بھی گئیں ترے کہے ہوئے لفظوں کی راکھ کیا چھیڑیں ہمارے اپنے قلم کی صداقتیں ...
کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا - ہم نے ترے خیال میں ڈھونڈا ترے جمال کو لفظوں کی دیکھ بھال میں معنی بدل...
"میرے بھی ہیں کچھ خواب" امجد اسلام امجد کا نظموں کا مجموعہ ہے جس میں ان کی بہترین نظمیں درج کی گئی ہیں۔ ہم لوگ دائروں میں چلتے ہی...
کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصرؔ یہ قافیہ پیمائی، ذرا کر کے تو دیکھو اسی بات کو اگلے وقتوں میں قبلہ میر تقی میرؔ نے کچھ یوں بیان کیا تھا...
جو تم چلو تو ابھی دو قدم میں کٹ جائے جو فاصلہ مجھے صدیوں میں پار کرنا ہے شاعری انسانی روح پر پڑنے والے فشار کی آئینہ دار ہوتی ہے لیکن اس دبا...
آگ اندر کی ہے کہ باہر کی کچھ نہیں سوجھتا الاؤ میں شہر میں آ گئے مضافاتی بتیاں دیکھنے کے چاؤ میں پھر کسی چارہ گر کی یاد آئی بہتری آ چلی تھی گ...
شاعری کی وادی سے گزرتے ہوئے قاری کے بھی پَر لگ جاتے ہیں۔ نئی آہٹیں اور نئی آوازیں اس طرح سنائی دیتی ہیں جیسے بادل بروقت برسیں۔ امجد اسلام ام...
زندگی کی طرح بارش کے بھی بے شمار روپ ہیں۔ میں غالبؔ کی طرح گردشِ سیارہ کی آواز تک تو رسائی حاصل نہیں کر سکا مگر بارش کی مختلف آوازوں نے زندگ...
1۔ ہے امجدؔ آج تک وہ شخص دل میں کہ جو اُس وقت بھی میرا نہیں تھا 2۔ کچھ ایسا درد تھا بانگِ جرَس میں سَفر سے قبل پچھتانے لگے ہی...
اتنے برس کی دُوری اور مہجوری کے افسونِ سَفر میں لپٹا ہوا اِک شخص اچانک آن ملا میں اُس کو دیکھ کے ششدر تھا وہ مجھ سے سِوا حیرا...
1- عشاق نہ پتھر نہ گدا کوئی نہیں ہے اب شہر میں سایوں کے سوا کوئی نہیں ہے بچھڑے ہوئے لوگوں کا پتہ کون بتائے رستوں میں بجز بادِ بلا کوئی نہیں...